بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ صدر مسعود پزشکیان نے پاکستان کے وزیرِ اعظم، شہباز شریف، کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں دونوں ممالک کے تعلقات کی گہرائی پر زور دیتے ہوئے اپنی گفتگو کے آغاز میں کہا: میرے عزیز بھائی جناب شہباز شریف، پاکستان کے محترم وزیرِ اعظم، میں اپنی بات کا آغاز عالمِ اسلام کے عظیم شاعر، علامہ محمد اقبال کے اشعار سے کرنا چاہتا ہوں؛ ایک شاعر جس کی فکر آج بھی مسلم امت کے اتحاد، یکجہتی اور بیداری کا باعث ہے:
'یگانگی ملت ما را اساسی دیگر است
این اساس اندر دل ما مضمر است
ما ز نعمتهای او اخوان شدیم
یک زبان و یک دل و یک جان شدیم'
ہماری ملت [امت] کی وحدت و یکجہتی کی بنیاد اور ہے
یہ بنیاد ہمارے دلوں میں نہاں ہے
ہم اس کی نعمتوں کی برکت سے بھائی بھائی بن گئے
یک زبان اور یک دل اور یک جان ہو گئے
صدر پزشکیان نے واضح کیا: یہ اشعار خوبصورتی سے اس حقیقت کو بیان کرتے ہیں جو کئی دہائیوں سے اسلامی جمہوریہ ایران اور جمہوریہ اسلامی پاکستان کے تعلقات کی بنیاد رہی ہے؛ اس طرح کہ دونوں ممالک کے تعلقات محض پڑوسی نہیں، بلکہ مشترکہ اہداف، فکری و نظریاتی دغدغوں اور امیدوں پر استوار ہیں۔
صدرِ اسلامی جمہوریہ ایران نے مزید کہا:
• پاکستان ایران کے لیے محض ایک پڑوسی ملک نہیں، بلکہ ایک دوست، بھائی اور مخلص ساتھی ملک ہے؛ اور گہرے تاریخی، ثقافتی، مذہبی اور عوامی رشتوں نے ہماری قوموں کو آپس میں جوڑ دیا ہے۔
• تہران اور اسلام آباد کے تعلقات ہمیشہ باہمی احترام، نیک نیتی اور تاریخی اعتماد پر استوار رہے ہیں اور حالیہ تبدیلیوں نے ایک بار پھر اس قیمتی سرمائے کی مضبوطی کو ثابت کرکے دکھایا ہے۔
• موجودہ حساس دور میں جب خطے کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، کشیدگی میں کمی اور علاقائی استحکام کو مضبوط کرنے کی حمایت میں پاکستان کا ذمہ دارانہ اور دوراندیشانہ کردار، اس ملک کے برادرانہ اور مستقبل بینی پر مبنی (Futuristic) نقطۂ نظر کا مظہر رہا ہے۔
• اسلامی جمہوریہ ایران نے جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کے اقدام کو قبول کیا جو خود ایران کی عوام کی پاکستان کی عوام، حکومت اور حکام پر دیرینہ اعتماد کا عکاس ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران پاکستان کی حکومت اور عوام کی کوششوں، حمایتوں اور اظہار یکجہتی کا قدرداں ہے۔
• ہم نے اسلام آباد میں پاکستان کے صدر اور اس ملک کے فوجی کمانڈروں اور حکام کے ساتھ تعمیری گفتگو کی۔
• طے پانے والے معاہدے اور مشاورت اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دونوں ممالک موجودہ مثبت ماحول سے دو طرفہ تعلقات میں ایک نیا باب کھولنے اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر تعاون کے نئے افق قائم کرنے کی غرض سے، استفادہ کرنے کے لئے پُرعزم ہیں۔
• مغربی ایشیا اور خلیج فارس کے خطے میں امن، استحکام، پائیدار سلامتی اور ترقی صرف واضح اور مخلصانہ گفتگو، بین علاقائی تعاون اور خطے کے ممالک کے باہمی احترام پر مبنی تعامل، کے ذریعے قابلِ حصول ہے۔
• ہم اس فریم ورک میں، اسلامی ممالک کی طرف مشترکہ تفاہم اور خطے میں سلامتی کے نئے ڈھانچے کے قیام کے لئے دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہیں اور ہمارا ماننا ہے کہ مسلمانوں کو چیلنجز کے مقابلے میں یکجا ہونا چاہئے۔
• دونوں ممالک کا عزم، رہنماؤں کے سیاسی ارادے اور عوام کی حمایت سے، ایران اور پاکستان کے تعلقات کو عالمِ اسلام کے دو اہم ممالک کے شایانِ شان سطح تک پہنچا سکتا ہے اور خطے میں تعاون، ہم آہنگی اور برادری کی ایک کامیاب مثال قائم کر سکتا ہے۔
• دونوں فریقین تعلقات کو خاص طور پر معاشی اور تجارتی شعبوں میں بڑھانے کے لیے سنجیدہ عزم رکھتے ہیں اور متعلقہ وزراء نے ماضی کے مفاہماتوں کے تحت تکنیکی رکاوٹوں کو دور کرنے اور اٹھائے گئے فیصلوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے تعمیری گفتگو کی ہے۔
• میں پاکستان کی حکومت اور عوام کی مستحسن مہمان نوازی اور نیز اسلامی انقلاب کے رہبر کی تجہیز و تکفین کی رسمی و قومی تقریب میں شرکت کے لئے پاکستانی وفد کی ایران آمد کا شکرگزار ہوں۔
• ایران کی میزائل صلاحیت کا موضوع حالیہ مفاہمت نامے میں شامل نہیں تھا اور نہ ہی کبھی شامل ہوگا۔
• اگر اپنے دفاع کے لئے ہمارے میزائل نہ ہوتے، تو اسرائیل امریکہ کی حمایت سے ایران کو غزہ کی طرح تہہ و بالا کر دیتا اور بوڑھے اور جوان پر رحم نہ کرتا۔
• مغربی لوگ انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں لیکن یہ دعویٰ ایک بڑا جھوٹ ہے۔
• اگر ہمارے پاس اپنی دفاعی صلاحیت نہ ہوتی، تو وہ بلا شبہ ہمارے ملک کو تباہ کر دیتے۔ لہٰذا ہم کبھی بھی اپنی دفاعی صلاحیت کے بارے میں کسی بھی فریق سے گفتگو نہیں کریں گے۔
پاکستان کے وزیرِ اعظم نے ایران کے صدر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا: میں آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت کو سراہتا ہوں۔
انھوں نے مزید کہا:
• میں ایران کے صدرِ جمہوریہ اور ان کے ہمراہ ایرانی وفد کو خوش آمدید کہتا ہوں۔
• جناب پزشکیان! آپ ایک عالم اور معالج ڈاکٹر ہیں۔
• آپ اور ٹرمپ کے درمیان مفاہمت نامے پر دستخط، امن کے لئے ایک شاندار موقع تھا جو پاکستان کی ثالثی میں طے پایا۔
• میں آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے حساس حالات میں اپنے ملک کی عمدہ قیادت کی۔
• ایرانی عوام نے جنگ کے پورے عرصے میں اپنا کردار عمدگی سے ادا کیا اور ہم اس عوامی ہمت کو سراہتے ہیں۔
• آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت انتہائی افسوسناک تھی اور وہ تمام اسلامی ممالک میں قابلِ احترام تھے۔
• ایران کا غم، پاکستانی قوم کا غم ہے۔ آپ کی کامیابی ہماری کامیابی ہے۔
• میں جناب پزشکیان کی دعوت پر اگلے ہفتے ایران کا دورہ کروں گا۔ ایران اور پاکستان زندہ باد۔
• میں مذاکرات میں معاونت کرنے پر امیر قطر کے کردار کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
• میں محمد بن سلمان، رجب طیب اردوان اور عبدالفتاح السیسی کا بھی انتہائی شکرگزار ہوں۔
• میں نے اس اجلاس میں پاکستان کے عوام کو مبارکباد دی کہ اللہ تعالیٰ کی مدد سے ہم ایک سہ فریقی مفاہمت نامے پر دستخط کرکے ایک اہم کامیابی حاصل کر پائے؛ اس طرح کہ یہ دستاویز اسلام آباد، تہران اور نیز دیگر فریقوں کے تعاون سے طے پائی ہے۔
• میں نے مسعود پزشکیان کو پاکستانی پارلیمنٹ پاکستان میں آنے کی دعوت دی ہے اور پاکستانی عوام نے بھی ان کے دورے کے بعد ایرانی وفد کا بہت گرمجوشی سے استقبال کیا ہے۔
• بیلسٹک میزائلوں کا موضوع کبھی بھی ایران اور امریکہ کے مذاکرات میں شامل نہیں تھا اور مفاہمت نامے کے متن میں بھی کسی عنوان کے تحت اس کا ذکر نہیں ہے اور اس سلسلے میں کوئی ابہام نہیں ہے۔
• اگر ایران بطور پڑوسی ملک دفاعی مقاصد کے لیے میزائل صلاحیت رکھتا ہے تو یہ ایک فطری امر ہے؛ کیونکہ دنیا کے بہت سے ممالک ایسی صلاحیتوں کے حامل ہیں اور یہ موضوع اعتراض کا باعث نہیں بن سکتا۔
• کچھ ممالک ان معاہدوں کے قیام سے ناخوش ہیں اور اس راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ ایران اور پاکستان سنجیدہ ارادے کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرنے اور امن و استحکام کے حصول کے خواہاں ہیں۔
• کچھ ممالک جو اس معاہدے میں شکوک و شبہات پیدا کرنے اور اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں، ایران اور دیگر فریقوں کے تعلقات کی پیشرفت سے ناخوش ہیں، لیکن ہم اور میرے عزیز بھائی جناب پزشکیان ان کوششوں کے مقابلے میں مضبوطی سے کھڑے رہیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ